15 جنوری 2012 - 20:30

تیونس کے صدر نے شام میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کی مداخلت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں مداخلت سے پورے خطے میں جنگ بھڑک اٹھےگی۔

ابنا: مرزوقی نے سعودی عرب سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ تیونس کے فراری ڈکٹیٹر سابق صدر بن علی کو واپس کردے ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہونگے۔ تیونس کے صدرمنصف المرزوقی نے اخبار الخبر سے گفتگو میں شام میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کی مداخلت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں مداخلت سے پورے خطے میں جنگ کے شعلے  بھڑک اٹھیں گے۔مرزوقی نے سعودی عرب سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ تیونس کے فراری ڈکٹیٹر سابق صدر بن علی کو واپس کردے ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہونگے،

انھوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کا لیبیا سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے شام میں فوجی مداخلت سے  پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔ المرزوقی نے بن علی کی سعودی عرب کی طرف سے میزبانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میزبانی کی مدت ختم ہوچکی ہے سعودی عرب کو چاہیے کہ اب وہ تیونس کے ڈکٹیٹر کو تیونس کے عوام کے حوالے کردے انھوں نے کہا کہ ظالم و جابر اور ڈکٹیپٹر بادشاہوں کو پناہ دینا سرزمین حجاز کی سنت کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلام اجازت نہیں دیتا کہ کہ ظالم اور خوانخوار ڈکٹیٹروں کو پناہ دی جائے اور ان کی حمایت کی جائے انھوں نے کہا کہ ظ ا لم کی حمایت ظالم ہی کرتا ہے۔
........

/169